بھٹکل:30/جنوری (ایس او نیوز) غوثیہ محلہ سے گذرنے والی شرابی ندی میں ڈرنیج کا گندہ اور بدبودار پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے نہ صرف پوری ندی آلودہ ہوگئی ہے بلکہ شرابی ندی کے کنارے بسے ہوئے تمام علاقے اتنے آلودہ ہوگئے ہیں کہ رہنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ تعفن سے علاقائی عوام کی زندگی جہنم زار بن گئی ہے عوام دور دراز مقامات پربسیرا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، علاقوں کے تمام عوام حالات سے اوب چکے ہیں اور بلدیہ و دیگر اداروں کے متعلق سخت برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔
مسئلہ اس وقت اور سنگین رخ اختیار کرگیا جب غوثیہ اسٹریٹ میں واقع پمپنگ اسٹیشن کے چاروں موٹر س خراب ہوکر کام کرنا بند کردئیے،جس کے نتیجے میں پمپ کے ذریعے جس ڈرینیج پانی کو وینکٹاپور کی طرف روانہ کیا جاتا تھا وہی گندہ پانی قریب کی شرابی ندی میں چھوڑا جانے لگا۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ پمپنگ کے دو موٹرس ایک ماہ پہلے ہی خراب ہوچکے تھے اور ایک ماہ سے گھٹر کا گندہ پانی ندی میں چھوڑا جارہاتھا لیکن عوام ان حالات سے بے خبر تھے انہیں ٹھیک طرح سے اس کے متعلق کوئی جانکاری نہیں تھی۔ ڈرنیج کا پانی چھوڑنے سے جب پوری شرابی ندی آلودہ ہوگئی ، بدبو سے متعلقہ علاقوں کے لوگوں کا جینا رہنا دوبھر ہوگیا تو لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑ ا تو گہری نیند میں سوئے ہوئے بلدیہ ، ادارے ،عوامی نمائندے اور دیگر حضرات بیدار ہوکر حرکت میں آگئے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ غوثیہ اسٹریٹ سے گندہ پانی جب شرابی ندی میں چھوڑا جانے لگا تو غوثیہ اسٹریٹ سمیت مشما محلہ، قاضیا محلہ، خلیفہ محلہ، ڈارنٹا، ڈونگرپلی یہاں تک کہ منڈلی کا پورا علاقہ تعفن میں نہا گیا اور علاقے کے پورے کنوئیں آلودہ ہوگئے۔ مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ گندہ پانی ندی میں چھوڑے جانے سے علاقے کے کنوؤں میں بھی ڈرنیج کا پانی جمع ہورہاہے اور ایسی خطرناک بدبو پھیلی ہے کہ ندی کنارے سے گزرنا لوگوں کے لئے محال ہوگیا ہے۔ ایسے تعفن بھرے علاقہ میں لوگ رہیں بھی تو کیسے رہیں ، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیاہے۔
عوام کی جانکاری کے لئے یہ بھی بتادیں کہ شرابی ندی کا بحرہ عرب سے راست جوڑ ہے ماہی گیر اسی ندی کے ذریعے سمندر میں ماہی گیر ی کے لئے جاتے ہیں حالات سے وہ بھی سخت برہم ہیں۔ ماہی گیر ندی کےپانی کو چھونے میں بھی کراہت اور خوف محسوس کررہے ہیں، بار بار پمپ کا موٹر خراب ہونےکے باوجود بھی بلدیہ کی خاموشی اور متبادل انتظام نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کی آنکھیں لال ہوگئی ہیں۔
دوسری طرف غوثیہ اسٹریٹ مسئلہ کو لے کر عوام سوشیل میڈیا میں اپنا غصہ ظاہر کرنے لگے تو ذمہ داران فوری حرکت میں آگئے۔ بنگلورو میں موجود مجلس اصلاح وتنظیم کے صدر جناب مزمل قاضیا نے واقعے کی جانکاری ملتے ہی ریاستی کابینہ کے اربن ڈیولپمنٹ منسٹر جناب آر ، روشن بیگ سے ملاقات کرتے ہوئے بھٹکل کے سنگین مسئلے سے آگاہ کیا۔سوشیل میڈیا پر جناب مزمل قاضیا نے بتایا کہ مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر روشن بیگ 4فروری کو بھٹکل کادورہ کرنے اور مسئلہ کے سلسلے میں حل کرنے کی کوشش کا تیقن دیا ہے۔ ادھر شہر بھٹکل میں تنظیم کے جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری کی قیادت میں عہدیداران پر مشتمل تنظیم کا ایک وفد بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر سے ملاقات کی اور واقعے پر سخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگرانتظامیہ اس سلسلے میں فوری طورپر مسئلہ کو حل نہیں کرتی ہے تو عوام کے لئے راستوں پر اترکر دھرنا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ بھٹکل میونسپل صدر جناب محمد صادق مٹا سمیت دیگر کاؤنسلرس بھی مسئلے کے حل کی کوشش میں متحرک دیکھے گئے۔ساحل آن لائن کو ملی اطلاعات کے مطابق مسئلے کو لے کر کاروار کے ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول سے بھی فون پر بات چیت کرتے ہوئے جانکاری دی گئی تو ضلع نگراں کاروزیر دیش پانڈے کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ دبئی سے قائد قوم ڈاکٹر ایس ایم سید خلیل الرحمن نے واقعے کی خبر ملتے ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ سدرامیا سے راست فون پر گفتگوکرتے ہوئے انہیں ان کے وعدوں کی یاد دہانی کرائی ، خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے بھٹکل تنظیم کے صدسالہ تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بھٹکل میں ڈرنیج سسٹم کو درست کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
اُدھر مقامی رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے ڈرینیج مسئلے کے متعلق وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے بات چیت کرنے کا عندیہ دیاہے۔اس سلسلے میں بھٹکل اسسٹنٹ کمشنرایم این منجوناتھ نے کہا ہے کہ وہ منگل کی صبح جائے وقوع کا دورہ کرتے ہوئے معائنہ کریں گے اور مسئلہ کے حل کی کوشش کریں گے۔ اس تعلق سے ساحل آن لائن کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بھٹکل میونسپل صدر جناب محمد صادق مٹا نے بتایا کہ چاروں موٹرس خراب ہوچکے ہیں جس کی بنا پر اتنا بڑا مسئلہ پیداہوگیا ہے، انہوں نے کہا کہ دو نئے موٹروں کا آرڈر دیا جاچکا ہے، البتہ پرانے اور خراب موٹر کو نکالنے اور وہاں نئے موٹر کو نصب کرنے کے لئے پلیٹ فارم بھی نئے سرے سے تیار کیاجارہا ہے، ان سب کو نصب کرنے کے لئے قریب 20 دن لگ سکتے ہیں۔ ان کے کہنے کے مطابق اب اگلے بیس دنوں تک گھٹر کے گندے پانی کو صاف ستھری شرابی ندی میں چھوڑا جاتا رہے گا جس کا پانی پہلے سے ہی آلودہ ہوچکا ہے۔
ان دگرگوں حالات کے چلتے عوام کی جانب سے متعلقہ پمنگ اسٹیشن کو دوسری طرف منتقل کرنے کے مطالبے میں بھی شدت پیدا ہوگئی ہے ایسے میں اب یہ دیکھنا باقی ہے کب متعلقہ علاقوں کے عوام کو چین وسکون اور راحت کی زندگی میسر آئے گی۔